ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ای ڈبلیو ایس ریزرویشن کیس: سپریم کورٹ پر 7 نومبر کو فیصلہ سنائے گی

ای ڈبلیو ایس ریزرویشن کیس: سپریم کورٹ پر 7 نومبر کو فیصلہ سنائے گی

Sun, 06 Nov 2022 11:50:18    S.O. News Service

نئی دہلی، 6؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)  سپریم کورٹ ملازمتوں اور تعلیم میں معاشی طور پر کمزور طبقوں (ای ڈبلیو ایس) کے لئے 10 فیصد ریزرویشن کے جواز کو چیلنج کرنے والی پی آئی ایل پر پیر کو اپنا فیصلہ سنائے گی۔

چیف جسٹس یو۔ یو للت اور جسٹس دنیش ماہیشوری، جسٹس ایس۔ رویندر بھٹ، جسٹس بیلا ایم ترویدی اور جسٹس جے ۔ بی۔ پاردی والا آئینی بنچ ای ڈبلیو ایس کو ریزرویشن فراہم کرنے والی 103ویں ترمیم کے جوازکو چیلنج کرنے والی رضاکارانہ تنظیم (این جی او) 'جنہت ابھیان' اور دیگر کی طرف سے دائر درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنائے گی۔

چیف جسٹس للت کی سربراہی والی پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے ریزرویشن پر سوال اٹھانے والی درخواستوں پر سات دن کی طویل سماعت کے بعد 27 ستمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جسٹس للت اور جسٹس بھٹ اس معاملے میں دو الگ الگ فیصلے سنائیں گے۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران اس وقت کے اٹارنی جنرل کے۔ کے وینوگوپال اور سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے حکومت کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے ای ڈبلیوایس ریزرویشن کے التزام کی حمایت کی تھی۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ 10 فیصد ای ڈبلیو ایس ریزرویشن درج فہرست ذاتوں/ درج فہرست قبائل (ایس سی/ ایس ٹی)، دیگر پسماندہ ذاتوں (او بی سی) اور عام زمرے کے لیے مقررہ 50 فیصد ریزرویشن کے تحت نہیں آتا ہے۔

حکومت نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس نے تمام مرکزی تعلیمی اداروں کو سیٹوں کی تعداد میں 25 فیصد اضافہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکومت نے کہا تھا کہ تعلیمی اداروں میں 4315.15 کروڑ روپے کی لاگت سے کل 2.14 لاکھ اضافی نشستیں منظور کی گئی ہیں۔

اس ای ڈبلیو ایس ریزرویشن کے ساتھ، ایس سی/ایس ٹی اور اوبی سی کو ملنے والے 50 فیصد ریزرویشن میں کوئی کٹوتی نہیں کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہوئےسینئر وکیل پی ولسن نے استدلال کیا کہ 103 ویں ترمیم آرٹیکل 15(4) اور 16(4) کے ذریعہ حاصل حقیقی مساوات کو ختم اور تباہ کرتی ہے اورسماج میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کو ان کی سابقہ ​​آئینی حیثیت پر واپس لے جاتی ہے۔


Share: